1800 کی دہائیوں میں ہجرت
امتحان میں شامل نہیں یہ حصہ پڑھنے کے قابل ہے، مگر شہریت کا امتحان اس کے بارے میں کبھی نہیں پوچھتا۔
1800 کی دہائی کے اوائل میں کالونیوں کے بڑے گروہ انگریز، اسکاٹش، ویلش اور آئرش نسل کے تھے۔ آسٹریلیا کی بہت سی تفریحات، ثقافتی سرگرمیاں اور مذہبی رسوم برطانیہ کی عکاسی کرتی تھیں۔ یورپ اور ایشیا سے آنے والے مہاجرین کے چھوٹے گروہ بھی تھے۔ 1800 کی دہائی میں یورپ سے آنے والوں میں اطالوی، یونانی، پولش، مالٹی اور روسی شامل تھے، نیز شراب سازی کی صنعت میں کام کرنے والے فرانسیسی آبادکار۔ یہ زیادہ تر نوجوان مرد تھے جو کام اور قسمت کی تلاش میں تھے، یا وہ جہازی تھے جو اپنے جہاز چھوڑ آئے تھے۔
1842 کے بعد چینی مہاجرین آسٹریلیا آنا شروع ہوئے، اور سونے کی دریافت کے بعد ان کی تعداد بڑھ گئی۔ سونے کی کانوں میں نسلی کشیدگی تھی، جو کبھی کبھی چینیوں کے خلاف فسادات کا باعث بنی، جیسے 1854 میں بینڈیگو (Bendigo) میں ہوئے۔ ان نسلی کشیدگیوں کے نتیجے میں 1855 میں وکٹوریہ اور 1861 میں نیو ساؤتھ ویلز میں امیگریشن پر پہلی پابندیاں لگیں۔
1850 کی دہائی کی سونے کی دوڑ کے بعد بہت سے چینی واپس اپنے وطن چلے گئے۔ جو رہ گئے ان میں وہ سبزی کاشتکار تھے جو ایسے علاقوں میں تازہ پھل اور سبزیاں فراہم کرتے تھے جہاں پانی کم تھا اور ان کی سخت ضرورت تھی۔
1860 کی دہائی سے ایران، مصر اور ترکیہ (Türkiye) سے لوگ آئے تاکہ آسٹریلیا کے آؤٹ بیک میں اونٹوں کے قافلے (‘trains’) چلائیں۔ بھارتی ساربانوں کے ساتھ انہیں عمومی طور پر ‘افغان’ کہا جاتا تھا، بڑی حد تک ان کے ملتے جلتے لباس اور مشترکہ اسلامی مذہبی عقائد کی وجہ سے۔ ان ساربانوں کو ‘اندرونِ ملک کے پیش رَو’ سمجھا جاتا تھا۔
بھارتی اور بحرالکاہل کے جزائر کے لوگ بھی تھے جو کوئنز لینڈ میں چینی اور کیلے کی صنعتوں میں کام کرتے تھے، اکثر بہت کم اجرت پر اور خراب حالات میں۔
1880 کی دہائی سے لبنان سے کارکن آسٹریلیا آئے۔ بہت سے کپڑے اور لباس کی صنعتوں سے وابستہ تھے، اور دیہی آسٹریلیا میں زیادہ تر کپڑے کی دکانیں لبنانی خاندانوں کی ملکیت بن گئیں۔
سرکاری کتابچے Australian Citizenship: Our Common Bond سے